Skip to content

مرا ہے کون دشمن میری چاہت کون رکھتا ہے

مرا ہے کون دشمن میری چاہت کون رکھتا ہے
اسی پر سوچتے رہنے کی فرصت کون رکھتا ہے

مکینوں کے تعلق ہی سے یاد آتی ہے ہر بستی
وگرنہ صرف بام و در سے الفت کون رکھتا ہے

نہیں ہے نرخ کوئی میرے ان اشعار تازہ کا
یہ میرے خواب ہیں خوابوں کی قیمت کون رکھتا ہے

در خیمہ کھلا رکھا ہے گل کر کے دیا ہم نے
سو اذن عام ہے لو شوق رخصت کون رکھتا ہے

مرے دشمن کا قد اس بھیڑ میں مجھ سے تو اونچا ہو
یہی میں ڈھونڈھتا ہوں ایسی قامت کون رکھتا ہے

ہمارے شہر کی رونق ہے کچھ مشہور لوگوں سے
مگر سب جانتے ہیں کیسی شہرت کون رکھتا ہے