Skip to content

نہ گمان موت کا ہے نہ خیال زندگی کا

نہ گمان موت کا ہے نہ خیال زندگی کا
سو یہ حال ان دنوں ہے مرے دل کی بے کسی کا

میں شکستہ بام و در میں جسے جا کے ڈھونڈتا تھا
کوئی یاد تھی کسی کی کوئی نام تھا کسی کا

میں ہواؤں سے ہراساں وہ گھٹن سے دل گرفتہ
میں چراغ تیرگی کا وہ گلاب روشنی کا

ابھی ریل کے سفر میں ہیں بہت نہال دونوں
کہیں روگ بن نہ جائے یہی ساتھ دو گھڑی کا

کوئی شہر آ رہا ہے تو یہ خوف آ رہا ہے
کوئی جانے کب اتر لے کہ بھروسہ کیا کسی کا

کوئی مختلف نہیں ہے یہ دھواں یہ رائیگانی
کہ جو حال شہر کا ہے وہی اپنی شاعری کا