Skip to content

کسی کو ہم سے ہیں چند شکوے کسی کو بے حد شکایتیں ہیں

کسی کو ہم سے ہیں چند شکوے کسی کو بے حد شکایتیں ہیں
ہمارے حصے میں صرف اپنی صفائیاں ہیں وضاحتیں ہیں

قدم قدم پر بدل رہے ہیں مسافروں کی طلب کے رستے
ہواؤں جیسی محبتیں ہیں صداؤں جیسی رفاقتیں ہیں

کسی کا مقروض میں نہیں پر مرے گریباں پہ ہاتھ سب کے
کوئی مری چاہتوں کا دشمن کسی کو درکار چاہتیں ہیں

تری جدائی کے کتنے سورج افق پہ ڈوبے مگر ابھی تک
خلش ہے سینے میں پہلے دن سی لہو میں ویسی ہی وحشتیں ہیں

مری محبت کے رازداں نے یہ کہہ کے لوٹا دیا مرا خط
کہ بھیگی بھیگی سی آنسوؤں میں تمام گنجلک عبارتیں ہیں

میں دوسروں کی خوشی کی خاطر غبار بن کر بکھر گیا ہوں
مگر کسی نے یہ حق نہ مانا کہ میری بھی کچھ ضرورتیں ہیں