Skip to content

چھوٹے چھوٹے کئی بے فیض مفادات کے ساتھ

چھوٹے چھوٹے کئی بے فیض مفادات کے ساتھ
لوگ زندہ ہیں عجب صورت حالات کے ساتھ

فیصلہ یہ تو بہرحال تجھے کرنا ہے
ذہن کے ساتھ سلگنا ہے کہ جذبات کے ساتھ

گفتگو دیر سے جاری ہے نتیجے کے بغیر
اک نئی بات نکل آتی ہے ہر بات کے ساتھ

اب کے یہ سوچ کے تم زخم جدائی دینا
دل بھی بجھ جائے گا ڈھلتی ہوئی اس رات کے ساتھ

تم وہی ہو کہ جو پہلے تھے مری نظروں میں
کیا اضافہ ہوا ان اطلس و بانات کے ساتھ

اتنا پسپا نہ ہو دیوار سے لگ جائے گا
اتنے سمجھوتے نہ کر صورت حالات کے ساتھ

بھیجتا رہتا ہے گم نام خطوں میں کچھ پھول
اس قدر کس کو محبت ہے مری ذات کے ساتھ