Skip to content

کبھی تو نے خود بھی سوچا کہ یہ پیاس ہے تو کیوں ہے

کبھی تو نے خود بھی سوچا کہ یہ پیاس ہے تو کیوں ہے
تجھے پا کے بھی مرا دل جو اداس ہے تو کیوں ہے

مجھے کیوں عزیز تر ہے یہ دھواں دھواں سا موسم
یہ ہوائے شام ہجراں مجھے راس ہے تو کیوں ہے

تجھے کھو کے سوچتا ہوں مرے دامن طلب میں
کوئی خواب ہے تو کیوں ہے کوئی آس ہے تو کیوں ہے

میں اجڑ کے بھی ہوں تیرا تو بچھڑ کے بھی ہے میرا
یہ یقین ہے تو کیوں ہے یہ قیاس ہے تو کیوں ہے

مرے تن برہنہ دشمن اسی غم میں گھل رہے ہیں
کہ مرے بدن پہ سالم یہ لباس ہے تو کیوں ہے

کبھی پوچھ اس کے دل سے کہ یہ خوش مزاج شاعر
بہت اپنی شاعری میں جو اداس ہے تو کیوں ہے

ترا کس نے دل بجھایا مرے اعتبارؔ ساجد
یہ چراغ ہجر اب تک ترے پاس ہے تو کیوں ہے