Skip to content

پھول تھے رنگ تھے لمحوں کی صباحت ہم تھے

پھول تھے رنگ تھے لمحوں کی صباحت ہم تھے
ایسے زندہ تھے کہ جینے کی علامت ہم تھے

سب خرد مند بنے پھرتے تھے ماشاء اللہ
بس ترے شہر میں اک صاحب وحشت ہم تھے

نام بخشا ہے تجھے کس کے وفور غم نے
گر کوئی تھا تو ترے مجرم شہرت ہم تھے

اب تو خود اپنی ضرورت بھی نہیں ہے ہم کو
وہ بھی دن تھے کہ کبھی تیری ضرورت ہم تھے

دھوپ کے دشت میں کتنا وہ ہمیں ڈھونڈتا تھا
اعتبارؔ اس کے لیے ابر کی صورت ہم تھے