Skip to content

ترے جیسا میرا بھی حال تھا نہ سکون تھا نہ قرار تھا

ترے جیسا میرا بھی حال تھا نہ سکون تھا نہ قرار تھا
یہی عمر تھی مرے ہم نشیں کہ کسی سے مجھ کو بھی پیار تھا

میں سمجھ رہا ہوں تری کسک ترا میرا درد ہے مشترک
اسی غم کا تو بھی اسیر ہے اسی دکھ کا میں بھی شکار تھا

فقط ایک دھن تھی کہ رات دن اسی خواب زار میں گم رہیں
وہ سرور ایسا سرور تھا وہ خمار ایسا خمار تھا

کبھی لمحہ بھر کی بھی گفتگو مری اس کے ساتھ نہ ہو سکی
مجھے فرصتیں نہیں مل سکیں وہ ہوا کے رتھ پر سوار تھا

ہم عجیب طرز کے لوگ تھے کہ ہمارے اور ہی روگ تھے
میں خزاں میں اس کا تھا منتظر اسے انتظار بہار تھا

اسے پڑھ کے تم نہ سمجھ سکے کہ مری کتاب کے روپ میں
کوئی قرض تھا کئی سال کا کئی رت جگوں کا ادھار تھا