Skip to content

میں تکیے پر ستارے بو رہا ہوں

میں تکیے پر ستارے بو رہا ہوں
جنم دن ہے اکیلا رو رہا ہوں

کسی نے جھانک کر دیکھا نہ دل میں
کہ میں اندر سے کیسا ہو رہا ہوں

جو دل پر داغ ہیں پچھلی رتوں کے
انہیں اب آنسوؤں سے دھو رہا ہوں

سبھی پرچھائیاں ہیں ساتھ لیکن
بھری محفل میں تنہا ہو رہا ہوں

مجھے ان نسبتوں سے کون سمجھا
میں رشتے میں کسی کا جو رہا ہوں

میں چونک اٹھتا ہوں اکثر بیٹھے بیٹھے
کہ جیسے جاگتے میں سو رہا ہوں

کسے پانے کی خواہش ہے کہ ساجدؔ
میں رفتہ رفتہ خود کو کھو رہا ہوں