Skip to content

تو بگڑتا بھی ہے خاص اپنے ہی انداز کے ساتھ

تو بگڑتا بھی ہے خاص اپنے ہی انداز کے ساتھ
پھول کھلتے ہیں ترے شعلۂ آواز کے ساتھ

ایک بار اور بھی کیوں عرض تمنا نہ کروں
کہ تو انکار بھی کرتا ہے عجب ناز کے ساتھ

لے جو ٹوٹی تو صدا آئی شکست دل کی
رگ جاں کا کوئی رشتہ ہے رگ ساز کے ساتھ

تو پکارے تو چمک اٹھتی ہیں میری آنکھیں
تیری صورت بھی ہے شامل تری آواز کے ساتھ

جب تک ارزاں ہے زمانے میں کبوتر کا لہو
ظلم ہے ربط رکھوں گر کسی شہباز کے ساتھ

پست اتنی تو نہ تھی میری شکست اے یارو
پر سمیٹے ہیں مگر حسرت پرواز کے ساتھ

پہرے بیٹھے ہیں قفس پر کہ ہے صیاد کو وہم
پر شکستوں کو بھی اک ربط ہے پرواز کے ساتھ

عمر بھر سنگ زنی کرتے رہے اہل وطن
یہ الگ بات کہ دفنائیں گے اعزاز کے ساتھ