Skip to content

ہم کبھی عشق کو وحشت نہیں بننے دیتے

ہم کبھی عشق کو وحشت نہیں بننے دیتے
دل کی تہذیب کو تہمت نہیں بننے دیتے

لب ہی لب ہے تو کبھی اور کبھی چشم ہی چشم
نقش تیرے تری صورت نہیں بننے دیتے

یہ ستارے جو چمکتے ہیں پس ابر سیاہ
تیرے غم کو مری عادت نہیں بننے دیتے

ان کی جنت بھی کوئی دشت بلا ہی ہوگی
زندہ رہنے کو جو لذت نہیں بننے دیتے

دوست جو درد بٹاتے ہیں وہ نادانی میں
در حقیقت مری سیرت نہیں بننے دیتے

فکر فن کے لیے لازم مگر اچھے شاعر
اپنے فن کو کبھی حکمت نہیں بننے دیتے

وہ محبت کا تعلق ہو کہ نفرت کا ندیمؔ
رابطے زیست کو خلوت نہیں بننے دیتے