Skip to content

مداوا حبس کا ہونے لگا آہستہ آہستہ

مداوا حبس کا ہونے لگا آہستہ آہستہ
چلی آتی ہے وہ موج صبا آہستہ آہستہ

ذرا وقفہ سے نکلے گا مگر نکلے گا چاند آخر
کہ سورج بھی تو مغرب میں چھپا آہستہ آہستہ

کوئی سنتا تو اک کہرام برپا تھا ہواؤں میں
شجر سے ایک پتا جب گرا آہستہ آہستہ

ابھی سے حرف رخصت کیوں جب آدھی رات باقی ہے
گل و شبنم تو ہوتے ہیں جدا آہستہ آہستہ

مجھے منظور گر ترک تعلق ہے رضا تیری
مگر ٹوٹے گا رشتہ درد کا آہستہ آہستہ

پھر اس کے بعد شب ہے جس کی حد صبح ابد تک ہے
مغنی شام کا نغمہ سنا آہستہ آہستہ

شب فرقت میں جب نجم سحر بھی ڈوب جاتے ہیں
اترتا ہے مرے دل میں خدا آہستہ آہستہ

میں شہر دل سے نکلا ہوں سب آوازوں کو دفنا کر
ندیمؔ اب کون دیتا ہے صدا آہستہ آہستہ