Skip to content

شام کو صبح چمن یاد آئی

شام کو صبح چمن یاد آئی
کس کی خوشبوئے بدن یاد آئی

جب خیالوں میں کوئی موڑ آیا
تیرے گیسو کی شکن یاد آئی

یاد آئے ترے پیکر کے خطوط
اپنی کوتاہیٔ فن یاد آئی

چاند جب دور افق پر ڈوبا
تیرے لہجے کی تھکن یاد آئی

دن شعاعوں سے الجھتے گزرا
رات آئی تو کرن یاد آئی