Skip to content

عجیب رنگ ترے حسن کا لگاؤ میں تھا

عجیب رنگ ترے حسن کا لگاؤ میں تھا
گلاب جیسے کڑی دھوپ کے الاؤ میں تھا

ہے جس کی یاد مری فرد جرم کی سرخی
اسی کا عکس مرے ایک ایک گھاؤ میں تھا

یہاں وہاں سے کنارے مجھے بلاتے رہے
مگر میں وقت کا دریا تھا اور بہاؤ میں تھا

عروس گل کو صبا جیسے گدگدا کے چلی
کچھ ایسا پیار کا عالم ترے سبھاؤ میں تھا

میں پر سکوں ہوں مگر میرا دل ہی جانتا ہے
جو انتشار محبت کے رکھ رکھاؤ میں تھا

غزل کے روپ میں تہذیب گا رہی تھی ندیمؔ
مرا کمال مرے فن کے اس رچاؤ میں تھا