Skip to content

عمر بھر اس نے اسی طرح لبھایا ہے مجھے

عمر بھر اس نے اسی طرح لبھایا ہے مجھے
وہ جو اس دشت کے اس پار سے لایا ہے مجھے

کتنے آئینوں میں اک عکس دکھایا ہے مجھے
زندگی نے جو اکیلا کبھی پایا ہے مجھے

تو مرا کفر بھی ہے تو مرا ایمان بھی ہے
تو نے لوٹا ہے مجھے تو نے بسایا ہے مجھے

میں تجھے یاد بھی کرتا ہوں تو جل اٹھتا ہوں
تو نے کس درد کے صحرا میں گنوایا ہے مجھے

تو وہ موتی کہ سمندر میں بھی شعلہ زن تھا
میں وہ آنسو کہ سر خاک گرایا ہے مجھے

اتنی خاموش ہے شب لوگ ڈرے جاتے ہیں
اور میں سوچتا ہوں کس نے بلایا ہے مجھے

میری پہچان تو مشکل تھی مگر یاروں نے
زخم اپنے جو کریدے ہیں تو پایا ہے مجھے

واعظ شہر کے نعروں سے تو کیا کھلتی آنکھ
خود مرے خواب کی ہیبت نے جگایا ہے مجھے

اے خدا اب ترے فردوس پہ میرا حق ہے
تو نے اس دور کے دوزخ میں جلایا ہے مجھے