Skip to content

کھڑا تھا کب سے زمیں پیٹھ پر اٹھائے ہوئے

کھڑا تھا کب سے زمیں پیٹھ پر اٹھائے ہوئے
اب آدمی ہے قیامت سے لو لگائے ہوئے

یہ دشت سے امڈ آیا ہے کس کا سیل جنوں
کہ حسن شہر کھڑا ہے نقاب اٹھائے ہوئے

یہ بھید تیرے سوا اے خدا کسے معلوم
عذاب ٹوٹ پڑے مجھ پہ کس کے لائے ہوئے

یہ سیل آب نہ تھا زلزلہ تھا پانی کا
بکھر بکھر گئے قریے مرے بسائے ہوئے

عجب تضاد میں کاٹا ہے زندگی کا سفر
لبوں پہ پیاس تھی بادل تھے سر پہ چھائے ہوئے

سحر ہوئی تو کوئی اپنے گھر میں رک نہ سکا
کسی کو یاد نہ آئے دیے جلائے ہوئے

خدا کی شان کہ منکر ہیں آدمیت کے
خود اپنی سکڑی ہوئی ذات کے ستائے ہوئے

جو آستین چڑھائیں بھی مسکرائیں بھی
وہ لوگ ہیں مرے برسوں کے آزمائے ہوئے

یہ انقلاب تو تعمیر کے مزاج میں ہے
گرائے جاتے ہیں ایواں بنے بنائے ہوئے

یہ اور بات مرے بس میں تھی نہ گونج اس کی
مجھے تو مدتیں گزریں یہ گیت گائے ہوئے

مری ہی گود میں کیوں کٹ کے گر پڑے ہیں ندیمؔ
ابھی دعا کے لیے تھے جو ہاتھ اٹھائے ہوئے