Skip to content

سورج کو نکلنا ہے سو نکلے گا دوبارا

سورج کو نکلنا ہے سو نکلے گا دوبارا
اب دیکھیے کب ڈوبتا ہے صبح کا تارا

مغرب میں جو ڈوبے اسے مشرق ہی نکالے
میں خوب سمجھتا ہوں مشیت کا اشارا

پڑھتا ہوں جب اس کو تو ثنا کرتا ہوں رب کی
انسان کا چہرہ ہے کہ قرآن کا پارہ

جی ہار کے تم پار نہ کر پاؤ ندی بھی
ویسے تو سمندر کا بھی ہوتا ہے کنارا

جنت ملی جھوٹوں کو اگر جھوٹ کے بدلے
سچوں کو سزا میں ہے جہنم بھی گوارا

یہ کون سا انصاف ہے اے عرش نشینو
بجلی جو تمہاری ہے تو خرمن ہے ہمارا

مستقبل انسان نے اعلان کیا ہے
آئندہ سے بے تاج رہے گا سر دارا