Skip to content

اپنے ماحول سے تھے قیس کے رشتے کیا کیا

اپنے ماحول سے تھے قیس کے رشتے کیا کیا
دشت میں آج بھی اٹھتے ہیں بگولے کیا کیا

عشق معیار وفا کو نہیں کرتا نیلام
ورنہ ادراک نے دکھلائے تھے رستے کیا کیا

یہ الگ بات کہ برسے نہیں گرجے تو بہت
ورنہ بادل مرے صحراؤں پہ امڈے کیا کیا

آگ بھڑکی تو در و بام ہوئے راکھ کے ڈھیر
اور دیتے رہے احباب دلاسے کیا کیا

لوگ اشیا کی طرح بک گئے اشیا کے لیے
سر بازار تماشے نظر آئے کیا کیا

لفظ کس شان سے تخلیق ہوا تھا لیکن
اس کا مفہوم بدلتے رہے نقطے کیا کیا

اک کرن تک بھی نہ پہنچی مرے باطن میں ندیمؔ
سر افلاک دمکتے رہے تارے کیا کیا