Skip to content

قلم دل میں ڈبویا جا رہا ہے

قلم دل میں ڈبویا جا رہا ہے
نیا منشور لکھا جا رہا ہے

میں کشتی میں اکیلا تو نہیں ہوں
مرے ہم راہ دریا جا رہا ہے

سلامی کو جھکے جاتے ہیں اشجار
ہوا کا ایک جھونکا جا رہا ہے

مسافر ہی مسافر ہر طرف ہیں
مگر ہر شخص تنہا جا رہا ہے

میں اک انساں ہوں یا سارا جہاں ہوں
بگولہ ہے کہ صحرا جا رہا ہے

ندیمؔ اب آمد آمد ہے سحر کی
ستاروں کو بجھایا جا رہا ہے