Skip to content

سانس لینا بھی سزا لگتا ہے

سانس لینا بھی سزا لگتا ہے
اب تو مرنا بھی روا لگتا ہے

کوہ غم پر سے جو دیکھوں تو مجھے
دشت آغوش فنا لگتا ہے

سر بازار ہے یاروں کی تلاش
جو گزرتا ہے خفا لگتا ہے

موسم گل میں سر شاخ گلاب
شعلہ بھڑکے تو بجا لگتا ہے

مسکراتا ہے جو اس عالم میں
بہ خدا مجھ کو خدا لگتا ہے

اتنا مانوس ہوں سناٹے سے
کوئی بولے تو برا لگتا ہے

ان سے مل کر بھی نہ کافور ہوا
درد یہ سب سے جدا لگتا ہے

نطق کا ساتھ نہیں دیتا ذہن
شکر کرتا ہوں گلہ لگتا ہے

اس قدر تند ہے رفتار حیات
وقت بھی رشتہ بپا لگتا ہے