Skip to content

لب خاموش سے افشا ہوگا

لب خاموش سے افشا ہوگا
راز ہر رنگ میں رسوا ہوگا

دل کے صحرا میں چلی سرد ہوا
ابر گلزار پہ برسا ہوگا

تم نہیں تھے تو سر بام خیال
یاد کا کوئی ستارہ ہوگا

کس توقع پہ کسی کو دیکھیں
کوئی تم سے بھی حسیں کیا ہوگا

زینت حلقۂ آغوش بنو
دور بیٹھو گے تو چرچا ہوگا

جس بھی فن کار کا شہکار ہو تم
اس نے صدیوں تمہیں سوچا ہوگا

آج کی رات بھی تنہا ہی کٹی
آج کے دن بھی اندھیرا ہوگا

کس قدر کرب سے چٹکی ہے کلی
شاخ سے گل کوئی ٹوٹا ہوگا

عمر بھر روئے فقط اس دھن میں
رات بھیگی تو اجالا ہوگا

ساری دنیا ہمیں پہچانتی ہے
کوئی ہم سا بھی نہ تنہا ہوگا