Skip to content

جانے کہاں تھے اور چلے تھے کہاں سے ہم

جانے کہاں تھے اور چلے تھے کہاں سے ہم
بیدار ہو گئے کسی خواب گراں سے ہم

اے نو بہار ناز تری نکہتوں کی خیر
دامن جھٹک کے نکلے ترے گلستاں سے ہم

پندار عاشقی کی امانت ہے آہ سرد
یہ تیر آج چھوڑ رہے ہیں کماں سے ہم

آؤ غبار راہ میں ڈھونڈیں شمیم ناز
آؤ خبر بہار کی پوچھیں خزاں سے ہم

آخر دعا کریں بھی تو کس مدعا کے ساتھ
کیسے زمیں کی بات کہیں آسماں سے ہم