Skip to content

کشتی چلا رہا ہے مگر کس ادا کے ساتھ

کشتی چلا رہا ہے مگر کس ادا کے ساتھ
ہم بھی نہ ڈوب جائیں کہیں نا خدا کے ساتھ

دل کی طلب پڑی ہے تو آیا ہے یاد اب
وہ تو چلا گیا تھا کسی دل ربا کے ساتھ

جب سے چلی ہے آدم و یزداں کی داستاں
ہر با وفا کا ربط ہے اک بے وفا کے ساتھ

مہمان میزباں ہی کو بہکا کے لے اڑا
خوشبوئے گل بھی گھوم رہی ہے صبا کے ساتھ

پیر مغاں سے ہم کو کوئی بیر تو نہیں
تھوڑا سا اختلاف ہے مرد خدا کے ساتھ

شیخ اور بہشت کتنے تعجب کی بات ہے
یارب یہ ظلم خلد کی آب و ہوا کے ساتھ

پڑھتا نماز میں بھی ہوں پر اتفاق سے
اٹھتا ہوں نصف رات کو دل کی صدا کے ساتھ

محشر کا خیر کچھ بھی نتیجہ ہو اے عدمؔ
کچھ گفتگو تو کھل کے کریں گے خدا کے ساتھ