Skip to content

وہ جو تیرے فقیر ہوتے ہیں

وہ جو تیرے فقیر ہوتے ہیں
آدمی بے نظیر ہوتے ہیں

دیکھنے والا اک نہیں ملتا
آنکھ والے کثیر ہوتے ہیں

جن کو دولت حقیر لگتی ہے
اف! وہ کتنے امیر ہوتے ہیں

جن کو قدرت نے حسن بخشا ہو
قدرتاً کچھ شریر ہوتے ہیں

زندگی کے حسین ترکش میں
کتنے بے رحم تیر ہوتے ہیں

وہ پرندے جو آنکھ رکھتے ہیں
سب سے پہلے اسیر ہوتے ہیں

پھول دامن میں چند رکھ لیجے
راستے میں فقیر ہوتے ہیں

ہے خوشی بھی عجیب شے لیکن
غم بڑے دل پذیر ہوتے ہیں

اے عدمؔ احتیاط لوگوں سے
لوگ منکر نکیر ہوتے ہیں