Skip to content

اک ذرا تم سے شناسائی ہوئی

اک ذرا تم سے شناسائی ہوئی
شہر بھر میں میری رسوائی ہوئی

حسن کو کوئی بھی دے پایا نہ مات
جب ہوئی عاشق کی پسپائی ہوئی

دیکھنے کو کچھ نہیں تھا گر یہاں
چشم بینا کیوں تماشائی ہوئی

اس نے پوچھا میرے آنے کا سبب
میں نے یہ جانا پذیرائی ہوئی

التجا دہرا رہا ہوں پھر وہ جوشؔ
جو ہے لاکھوں بار دہرائی ہوئی