Skip to content

ہر ملاقات میں لگتے ہیں وہ بیگانے سے

ہر ملاقات میں لگتے ہیں وہ بیگانے سے
فائدہ کیا ہے بھلا ایسوں کے یارانے سے

کچھ جو سمجھا تو مجھے سب نے ہی عاشق سمجھا
بات یہ خوب نکالی مرے افسانے سے

زندگی اپنی نظر آنے لگی صرف سراب
کبھی گزرے جو دل زار کے ویرانے سے

ایک پل بھی نہ ٹھہر پاؤ گے اے سنگ زنو
کوئی پتھر کبھی لوٹ آیا جو دیوانے سے

تم کو مرنا ہے تو مرنا مرے گل ہونے پر
شمع کہتی رہی شب بھر یہی پروانے سے

پھر نہ دیکھا تجھے اے جوشؔ سکوں سے بیٹھا
جب سے اٹھا ہے تو اس شوخ کے کاشانے سے