Skip to content

آہ بھی حرف دعا ہو جیسے

آہ بھی حرف دعا ہو جیسے
اک دکھی دل کی صدا ہو جیسے

وہ ہے خاموش تو یوں لگتا ہے
ہم سے رب روٹھ گیا ہو جیسے

نام لکھ لکھ کے مٹاتا ہے مرا
یہ بھی اک نقش وفا ہو جیسے

دل کے آئینے میں ہے اک چہرہ
کوئی شے ڈھونڈ رہا ہو جیسے

زندگی اونگھ رہی ہے اے جوشؔ
کسی مفلس کا دیا ہو جیسے