Skip to content

اتنا احسان تو ہم پر وہ خدارا کرتے

اتنا احسان تو ہم پر وہ خدارا کرتے
اپنے ہاتھوں سے جگر چاک ہمارا کرتے

ہم کو تو درد جدائی سے ہی مر جانا تھا
چند روز اور نہ قاتل کو اشارہ کرتے

لے کے جاتے نہ اگر ساتھ وہ یادیں اپنی
یاد کرتے انہیں اور وقت گزارا کرتے

زندگی ملتی جو سو بار ہمیں دنیا میں
ہم تو ہر بات اسے آپ پہ وارا کرتے

جوشؔ دھندلاتا نہ ہرگز یہ مرا شیشۂ دل
گرد اس کی وہ اگر روز اتارا کرتے