Skip to content

چاندنی رات میں اندھیرا تھا

چاندنی رات میں اندھیرا تھا
اس طرح بے بسی نے گھیرا تھا

میرے گھر میں بسی تھی تاریکی
گھر سے باہر مگر سویرا تھا

وہ کسی اور کا ہوا ہے آج
وہ جو کل تک تو صرف میرا تھا

اڑ گئے آس کے سبھی پنچھی
جن کا دل میں مرے بسیرا تھا

بس وہیں جوشؔ کا مزار ہے آج
کل جہاں بے وفا کا ڈیرا تھا