Skip to content

دل مرا اجڑا یہ ایسا کہ بسایا نہ گیا

دل مرا اجڑا یہ ایسا کہ بسایا نہ گیا
داغِ دل مجھ سے ابھی تک تو مٹایا نہ گیا

اک تر ے ہجر کا جو زخم سہا تھا میں نے
کون سا زخم تھا پھر مجھ سے جو کھایا نہ گیا

مہرباں تم نہ رہے مجھ پہ وگرنہ یوں تھا
کہ رقیبوں سے مرا قد تو گھٹایا نہ گیا

جس کی خاطر کہیں غزلیں لکھیں نظمیں میں نے
شعر اس کو تو کبھی مجھ سے سنایا نہ گیا

بارہا ہم نے تمنا کی تمہاری لیکن
بارہا حال دل اپنا تو سنایا نہ گیا

اک ترے روٹھنے کی رہتی تھی پروا ہم کو
کوئی تیرے سوا ہم سے بھی منایا نہ گیا