Skip to content

لاکھ نظریں چرائی ہیں تم سے

لاکھ نظریں چرائی ہیں تم سے
دل تمہارا تھا سو تمہارا ہے

کشتیاں ڈوبتی نہیں جس میں
ایسے دریا کا تُو کنارا ہے

ایک مدت میں خود کو جمع کیا
اور سب ایک پل میں ہارا ہے

تیری باتیں ہمیں رہیں از بر
جا بجا تجھ کو ہی پکارا ہے

جل بجھا ہوں اگرچہ میں سو بار
میرے اندر ابھی شرارا ہے