Skip to content

نہ کیے عشق میں حساب بہت

نہ کیے عشق میں حساب بہت
ہم ہوئے سو ہوئے خراب بہت

یہ محبت ہے ان دنوں کا روگ
مجھ پہ کم ان پہ تھا شباب بہت

دیکھئے کیا انہیں پسند آئے
اک سوال ان کا اور جواب بہت

کچھ تو اپنی رضا رہی شامل
پھر انہوں نے کیا خراب بہت

احتساب ان کا بھی کرے گا کوئی
کر رہے ہیں جو احتساب بہت

کوئی اسرارِ ہستی سمجھائے
زندگی مختصر نصاب بہت