Skip to content

جلانے کو دل ہے لٹانے کو جاں ہے

جلانے کو دل ہے لٹانے کو جاں ہے
پرانا ہے ساماں نیا امتحاں ہے

تمہیں اب کہاں مل سکیں گے ہم آواز
مرے دوست چپ رہنے میں جب اماں ہے

مجھے یاد ہے صرف اپنا بکھرنا
مری خاک پہنچی نجانے کہاں ہے

کشادہ دلی تیری کس کام کی ہے
فقط دو ہی کمروں کا تیرا مکاں ہے

ہم اپنی زمیں سے اسے دیکھتے ہیں
کلیمؔ اس ستارے کا اپنا جہاں ہے