Skip to content

کیوں نجانے اسے قرار نہیں

کیوں نجانے اسے قرار نہیں
اب ہمیں دل کا اعتبار نہیں

وہ کہیں لوٹ تو نہ آئے گا
اب ہمیں جس کا انتظار نہیں

راستوں کا چناؤ ہی کر لیں
منزلوں پر تو اختیار نہیں

ہوں تمناؤں کا میں مارا ہوا
اور تمناؤں کا شمار نہیں

شاعری اک حسین مشغلہ ہے
ورنہ مجھ کو کسی سے پیار نہیں