Skip to content

ہمیشہ ایک ہی رخ دیکھتا ہے

ہمیشہ ایک ہی رخ دیکھتا ہے
کسی کی آئنے کو بددعا ہے

جسے دیکھو وہ الٹا دیکھتا ہے
بھلا بھی آجکل کتنا برا ہے

غزل بے ساختہ ہونے لگی ہے
کہیں تو زخم بھی کام آ رہا ہے

ترے خوابوں کی تعبیریں سلامت
ہمارے رتجگوں کا کیا کیا ہے

ہمارا نام ہے ان کی زباں پر
کوئی پوچھے انہیں کیا ہو گیا ہے

یہ کس کا پیرہن پھر کاغذی ہے
یہ کس کا نقش فریادی ہوا ہے

کنارے لوگ پیاسے مر رہے ہیں
ظفرؔ دریا میں اک سیل بلا ہے