Skip to content

وہ خال وخد نہ وہ بچوں سی ضد نہ وہ لہجہ

وہ خال وخد نہ وہ بچوں سی ضد نہ وہ لہجہ
ترا نواز ظفرؔ اب نہیں رہا ویسا

ترے علاوہ کسی نےمری سنی ہی نہیں
میں تیرا نام نہ لیتا تو اور کیا کرتا

مسافرت میں ہیں بار سفر اٹھائے ہوئے
کہاں کی جنس میاں اور کہاں کا بنجارہ

ابھی یہ پیاس کی شدت کو جانتے ہی نہیں
ابھی صیام کو لازم ہے شام تک تڑپا

میں جس جزیرے پہ رہتا ہوں وسعتوں والے!
چہار سمت ہے صحرا کہیں کہیں سبزہ

نہیں یہ ظلم تھا میں ظلم پر بھی چپ رہتا
مجھے دبایا گیا تھا میں پھر بھی بول پڑا

میں اپنے عہد کی تاریخ ہوں نواز ظفرؔ
مجھے پڑھے گی کتابوں میں نسل آئندہ