Skip to content

اسکی نظر اگرچہ نیازانہ بھی نہیں

اسکی نظر اگرچہ نیازانہ بھی نہیں
یکسر وہ میرے حال سے بیگانہ بھی نہیں

اسکا کرم ہے ایک بھرم ہے بنا ہوا
ورنہ مری خرابیاں افسانہ بھی نہیں

ساقی تری شراب کا نشہ کہاں گیا
وہ رند تو نہیں ہیں وہ مے خانہ بھی نہیں

حق ہو بھی کیا ادا کہ تقاضائے عشق میں
یہ جان اس کے حسن کا نذرانہ بھی نہیں

لوگوں سے رائے مانگتا پھرتا ہوں شعر پر
لوگوں کی رائے شعر کا پیمانہ بھی نہیں

"اک شمع جل رہی ہے سررہگزار زیست”
فانوس بھی نہیں کوئی پروانہ بھی نہیں

کیا جانیے نواز ظفرؔ کیوں عجیب ہے
وہ شخص چال ڈھال میں دیوانہ بھی نہیں