Skip to content

دیواروں کو دل کا حال سناتے ہیں

دیواروں کو دل کا حال سناتے ہیں
لوگوں میں ہم شاعر جانے جاتے ہیں

تیری باتیں سر آنکھوں پر یار ہے تو
اپنی بات بھی کتنے لوگ نبھاتے ہیں

مجھ پر سایہ کرتے تھے یہ پیڑ کبھی
بڑا ہوا ہوں تو دستار گراتے ہیں

فاقہ مستی میں یہ مستی کیا شے ہے
اس سے پوچھو جس پر فاقے آتے ہیں

کسی کسی سے ملتا ہے وہ عید کے روز
اکثر لوگ تو بس تہوار مناتے ہیں

دیوانے بھی جنگل میں جا بستے ہیں
دیوانے بھی کب تک پتھر کھاتے ہیں

ایک فقیر نواز ظفرؔ ہے بستی میں
لوگ قبیلوں والے ہیں اتراتے ہیں