Skip to content

کیا خاکی کیا نوری کی ہے

کیا خاکی کیا نوری کی ہے
ساری بات حضوری کی ہے

تم کیا جانو عاشقی کیا ہے
تم نے کبھی مزدوری کی ہے

جانے اس کے ہاتھ میں ہے کیا
خوشبو تو کستوری کی ہے

مجھ میں ایک کمی رہتی تھی
تم نے آکر پوری کی ہے

جیسے خاک اڑی ہے میری
یہ وحشت مجبوری کی ہے

دنیا سے تو لڑ سکتا ہوں
تم سے بحث ادھوری کی ہے

نام نواز ظفرؔ ہے شائد
لاش کسی منصوری کی ہے