Skip to content

لگائی آگ لوگوں نے نہ تم سمجھے نہ ہم سمجھے

لگائی آگ لوگوں نے نہ تم سمجھے نہ ہم سمجھے
یہ شعلے کس طرح بھڑکے نہ تم سمجھے نہ ہم سمجھے

ہمارے تلخ لہجے سے تمہیں بھی بدگمانی ہے
منافق ریشمی لہجے نہ تم سمجھے نہ ہم سمجھے

تم اپنی بے نیازی میں ہم اپنی بے دماغی میں
یہ چہروں پر کئی چہرے نہ تم سمجھے نہ ہم سمجھے

یونہی اوروں سے بدظن تھے ہمارے اپنے دشمن تھے
یہ خونیں خون کے رشتے نہ تم سمجھے نہ ہم سمجھے

ہماری روسیاہی کے تمہاری کج کلاہی کے
یہ سارے عارضی نقشے نہ تم سمجھے نہ ہم سمجھے

محبت اس زمانے میں نرا گھاٹے کا سودا ہے
سیانے ٹھیک کہتے تھے نہ تم سمجھے نہ ہم سمجھے

یہاں جذبات کی قیمت نہیں جان ظفرؔ کچھ بھی
مگر جذبات کے مارے نہ تم سمجھے نہ ہم سمجھے