Skip to content

جسم پر اوڑھتے ہو مٹی کو

جسم پر اوڑھتے ہو مٹی کو
پاؤں میں رولتے ہو مٹی کو

رات دن کھیلتے ہو پانی سے
رات دن سوچتے ہو مٹی کو

وہ خزانہ تو لے گیا ہے کوئی
بے سبب کھودتے ہو مٹی کو

اتنے انجان بن رہے ہو کیوں
غور سے دیکھتے ہو مٹی کو

تم بھی مٹی کے دیوتا ہو صہیبؔ
کس لیے پوجتے ہو مٹی کو