Skip to content

اک عمر سے تعزیرِ وفا کاٹ رہا ہے

اک عمر سے تعزیرِ وفا کاٹ رہا ہے
دل اپنے ہی ہاتھوں کا لکھا کاٹ رہا ہے

یہ کیا ہے مرے سامنے تھراتی ہوئی لو
یہ کون چراغوں کی ضیا کاٹ رہا ہے

وہ اپنا بدن حبس کی سولی پہ چڑھا کر
اب سانس کی آری سے ہوا کاٹ رہا ہے

اے گرمئیِ احساس مجھے تیری قسم ہے
بد بخت ہے جو نخلِ انا کاٹ رہا ہے

یہ چیختا چلاتا لہو پوش پرندہ
لگتا ہے کسی چپ کی سزا کاٹ رہا ہے

وہ ہاتھ کسی اور کے ہاتھوں میں سجیں گے
عدنانؔ یونہی برگِ حنا کاٹ رہا ہے