Skip to content

یادوں کا بوجھ سر سے کہاں تک اتارتے

یادوں کا بوجھ سر سے کہاں تک اتارتے
ہم لخت لخت ہو گئے تم کو سنوارتے

جس کے لیے لڑے تھے وہ دشمن سے مل گیا
پھر ہم وفا کى جنگ میں کیسے نہ ہارتے

تو ہى تو ایک دوست تھا تو بھى بدل گیا
اب ہم پکارتے بھى تو کس کو پکارتے

جب کچھ نہ بن پڑا تو تیرے پاس آ گئے
یادوں کے آسرے پہ کہاں دن گزارتے

کشکول ہاتھ میں تھا نہ تیشہ کوئى صہیبؔ
ہم عشق کر بھى لیتے تو کیا تیر مارتے