Skip to content

جو حالِ دل سنایا جا رہا ہے

جو حالِ دل سنایا جا رہا ہے
بھرم اپنا گنوایا جا رہا ہے

یہ کارِ زندگی کیا ہے؟ نہ پوچھو
ڈرامہ ہے رچایا جا رہا ہے

الٰہی! بدگماں ہر گز نہیں ہوں
مگر مجھ کو ڈرایا جا رہا ہے

محبت عام ہوتی جا رہی ہے
محبت کو دبایا جا رہا ہے

ترستا ہے کوئی سائے کو عدنانؔ
کسی کے ساتھ سایا جا رہا ہے