Skip to content

شبِ غم سے آشنائی سرِ شام کرتے کرتے

شبِ غم سے آشنائی سرِ شام کرتے کرتے
میں لپٹ گیا خوشی سے تیرے غم سے ڈرتے ڈرتے

مجھے بعد میں سنبھالو، یہ حساب تو لگا لو
میں بکھر گیا ہوں کتنا تمھیں جمع کرتے کرتے

چلو رسم تو چلی ہے ترے شہر میں جنوں کی
کئی رہ پہ آ گئے ہیں میرے ساتھ مرتے مرتے

تری نذر کیا اتاریں، اے نویدِ صبحِ روشن
یہاں سو گیا ہے کل شب کوئی آہیں بھرتے بھرتے

جو صہیبؔ تم سے مخلص نہ رہے تو کیا رہے ہم
رہ و رسمِ دنیاداری کوئی ہم سے بَرتے بَرتے