Skip to content

خدائے برتر نے آسماں کو زمین پر مہرباں کیا ہے

خدائے برتر نے آسماں کو زمین پر مہرباں کیا ہے
مگر مرے خواب کے نگر کو چراغ نے خوش گماں کیا ہے

سنو کہ میں نے دھری ہے سطح رواں پہ اک ڈولتی عمارت
اور ایک شمع طرب کو شہر ملال کا پاسباں کیا ہے

مجھے یقیں ہے یہ صبح نو بھی مرے ستارے کا ساتھ دے گی
کہ میں نے اک اسم کی مدد سے غبار کو آسماں کیا ہے

یہ سچ ہے میری صدا نے روشن کیے ہیں محراب پر ستارے
مگر مری بے قرار آنکھوں نے آئنے کا زیاں کیا ہے

نگاہ نم ناک کو لہو نے کیا ہے مجبور دیکھنے پر
اور ایک ربط خفی کو رسم مغائرت نے جواں کیا ہے

کہیں نہیں ہے مسافت عمر میں کسی خواب کا پڑاؤ
سو میں نے اس بے کنار صحرا پہ ابر کا سائباں کیا ہے

ستارۂ خواب سے بھی بڑھ کر یہ کون بے مہر ہے کہ جس نے
چراغ اور آئنے کو اپنے وجود کا راز داں کیا ہے