Skip to content

جہاں بھر میں مرے دل سا کوئی گھر ہو نہیں سکتا

جہاں بھر میں مرے دل سا کوئی گھر ہو نہیں سکتا
کہ ایسی خاک پر ایسا سمندر ہو نہیں سکتا

رواں رہتا ہے کیسے چین سے اپنے کناروں میں
یہ دریا میری بیتابی کا مظہر ہو نہیں سکتا

کسی کی یاد سے دل کا اندھیرا اور بڑھتا ہے
یہ گھر میرے سلگنے سے منور ہو نہیں سکتا

بہت بے تاب ہوتا ہوں میں اس کو دیکھ کر لیکن
ستارہ تیری آنکھوں سے تو بڑھ کر ہو نہیں سکتا

یہ موج عمر ہر شے کو بہت تبدیل کرتی ہے
مگر جو سانس لیتا ہے وہ پتھر ہو نہیں سکتا

میں اس دنیا میں رہتا ہوں کہ جس دنیا کے لوگوں کو
خوشی کا ایک لمحہ بھی میسر ہو نہیں سکتا