Skip to content

نہیں اب روک پائے گی فصیل شہر پانی کو

نہیں اب روک پائے گی فصیل شہر پانی کو
بہائے جا رہی ہے روشنی کی لہر پانی کو

مجھے بھی سرخ کرتی ہے یہ مشعل میری آنکھوں کی
کہ جیسے سبز کرتا ہے ضیا کا زہر پانی کو

کسی بے نام سیارے پہ اب بھی ابر چھایا ہے
ترستا ہے کئی دن سے اگرچہ دہر پانی کو

بہت اترا رہی ہے موج صحرا اپنے ہونے پر
رواں رکھتی ہو جیسے آج بھی یہ نہر پانی کو

نکلنا چاہتا ہے قید سے جیسے مشیت کی
پسند آیا نہیں ہے آسمانی قہر پانی کو

اسے وہ راکھ کرنے کے لئے تیار ہے ساجدؔ
مقید ہی نہ رکھے گا فقط یہ شہر پانی کو