Skip to content

رکا ہوں کس کے وہم میں مرے گمان میں نہیں

رکا ہوں کس کے وہم میں مرے گمان میں نہیں
چراغ جل رہا ہے اور کوئی مکان میں نہیں

وہ طائر نگاہ بھی سفر میں ساتھ ہے مرے
کہ جس کا ذکر تک ابھی کسی اڑان میں نہیں

مری طلب مرے لیے ملال چھوڑ کر گئی
جو شے مجھے پسند ہے وہی دکان میں نہیں

کوئی عجیب خواب تھا اگر میں یاد کر سکوں
کوئی عجیب بات تھی مگر وہ دھیان میں نہیں

وہ دشمنی کی شان سے ملے تو دل میں رہ گئے
مگر یہ بات دوستی کی آن بان میں نہیں

میں رزق خواب ہو کے بھی اسی خیال میں رہا
وہ کون ہے جو زندگی کے امتحان میں نہیں

وہ خواب شام ہجر میں سحر کی آس تھا مجھے
مگر وہ تیرے وصل کی کھلی امان میں نہیں