Skip to content

من جس کا مولا ہوتا ہے

من جس کا مولا ہوتا ہے
وہ بالکل مجھ سا ہوتا ہے

آنکھیں ہنس کر پوچھ رہی ہیں
نیند آنے سے کیا ہوتا ہے

مٹی کی عزت ہوتی ہے
پانی کا چرچا ہوتا ہے

جانتا ہوں منصور کو بھی میں
اپنے ہی گھر کا ہوتا ہے

اچھی لڑکی ضد نہیں کرتے
دیکھو عشق برا ہوتا ہے

وحشت کا اک گر ہے جس میں
قیس اپنا بچہ ہوتا ہے

بعض اوقات مجھے دنیا پر
دنیا کا بھی شبہ ہوتا ہے

تم مجھ کو اپنا کہتے ہو
کہہ لینے سے کیا ہوتا ہے