Skip to content

جناب شیخ کی ہرزہ سرائی جاری ہے

جناب شیخ کی ہرزہ سرائی جاری ہے
ادھر سے ظلم ادھر سے دہائی جاری ہے

بچھڑ گیا ہوں مگر یاد کرتا رہتا ہوں
کتاب چھوڑ چکا ہوں پڑھائی جاری ہے

ترے علاوہ کہیں اور بھی ملوث ہوں
تری وفا سے مری بے وفائی جاری ہے

وہ کیوں کہیں گے کہ دونوں میں امن ہو جائے
ہماری جنگ سے جن کی کمائی جاری ہے

عجیب خبط مسیحائی ہے کہ حیرت ہے
مریض مر بھی چکا ہے دوائی جاری ہے